1— رات کے سائے ( پانچواں باب)
پہلا حصہ
صبح کی دھوپ ابھی پوری طرح تیز نہیں ہوئی تھی۔
پہاڑوں کی ڈھلوانوں پر بکھری ہلکی سنہری روشنی دور سے ایسے معلوم ہوتی تھی جیسے کسی نے سبز چادر پر باریک زرد دھاگے کڑھ دیے ہوں۔ ندی جعفر یہاں پہنچتے پہنچتے نسبتاً پتلی ہو جاتی تھی۔ اس کا پانی بڑے سکون سے چٹانوں کے درمیان سے گزرتا، کہیں کسی پتھر سے ٹکرا کر ہلکی سی آواز پیدا کرتا اور پھر دوبارہ خاموش ہو جاتا۔
مراد نے گاڑی سڑک کے کنارے بنے چھوٹے سے پارکنگ ایریا میں کھڑی کی اور آہستہ آہستہ آگے بڑھنے لگا۔
سامنے لکڑی کے دو بڑے بورڈ نصب تھے۔
"شفا ہنی فارمز"
اس کے نیچے چھوٹے حروف میں لکھا تھا۔
"قدرتی پہاڑی شہد — براہِ راست چھتوں سے"
اندر داخل ہوتے ہی ماحول بدل گیا۔
ہوا میں جنگلی پھولوں اور تازہ شہد کی ملی جلی خوشبو تیر رہی تھی۔ مختلف سمتوں میں قطار در قطار رکھے لکڑی کے چھتے، ان کے اردگرد منڈلاتی شہد کی مکھیاں اور سفید حفاظتی لباس پہنے چند کارکن اپنے اپنے کام میں مصروف تھے۔
کہیں ایک شخص احتیاط سے دھواں دے رہا تھا۔
کہیں دو مزدور بھاری فریم اٹھا کر ایک شیڈ کی طرف لے جا رہے تھے۔
ایک جانب شیشے کی دیوار کے پیچھے شہد نکالنے والی جدید مشینیں مسلسل چل رہی تھیں۔ سنہری شہد باریک دھار کی صورت بڑے سٹیل کے برتنوں میں جمع ہو رہا تھا، پھر فلٹر ہو کر شیشے کی بوتلوں میں منتقل کیا جا رہا تھا۔
اندر آنے والے سیاح شیشے کے اس پار کھڑے یہ سارا عمل دلچسپی سے دیکھ رہے تھے۔
کسی بچے نے ضد کر کے شہد چکھنے کی فرمائش کی تو سیلز کاؤنٹر پر کھڑی لڑکی نے مسکراتے ہوئے ایک لکڑی کی چھوٹی سی اسٹک اس کی طرف بڑھا دی۔
"یہ جنگلی بیری کے پھولوں کا شہد ہے... ذرا یہ بھی چکھ کر دیکھیے۔"
مراد بھی کاؤنٹر تک آ گیا۔
لڑکی نے اسی خوش دلی سے اس کی طرف بھی ایک چھوٹی سی اسٹک بڑھائی۔
"سر، یہ ہمارا سب سے زیادہ پسند کیا جانے والا شہد ہے۔"
مراد نے معمولی سا چکھا۔
ذائقہ خالص تھا۔
کم از کم اتنا کہ اس پر شک کرنے کی کوئی وجہ نہیں بنتی تھی۔
اس نے شیشے کی الماریوں پر نظر دوڑائی۔
سرسوں!
ببول!
بیری!
جنگلی پھول!
ہر بوتل پر تاریخ، وزن اور معیار کی مہر موجود تھی۔
ہر چیز ایک باقاعدہ اور منظم کاروبار کی گواہی دے رہی تھی۔
پچاس پچپن برس کا ایک شخص، جو ہلکی مسکراہٹ لیے سیاحوں کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھا وہ مراد کی طرف بڑھا۔۔
"پہلی بار آئے ہیں؟"
مراد نے آواز کی سمت دیکھا۔
"جی۔"
"خوش آمدید۔"
اس نے ہاتھ بڑھایا۔
"میں سلیم احمد ہوں... یہاں کا مینیجر ہوں۔"
مراد نے مصافحہ کیا۔
"شہر میں آپ کے شہد کا کافی ذکر سنا تھا، سوچا خود آ کر دیکھ لیا جائے۔"
سلیم کے چہرے پر ایک مطمئن سی مسکراہٹ ابھری۔
"لوگوں کا اعتماد ہی ہماری اصل کمائی ہے۔ باقی شہد تو اللہ کی نعمت ہے۔"
بات کرتے کرتے وہ مراد کو ساتھ لے کر ایک کھلے شیڈ کی طرف بڑھ گیا۔
"یہاں زیادہ تر شہد آس پاس کے پہاڑی علاقوں سے حاصل ہوتا ہے۔ موسم اچھا رہے تو پیداوار بھی اچھی رہتی ہے، ورنہ مکھی اپنی مرضی کی مالک ہے، اسے حکم نہیں دیا جا سکتا۔"
مراد نے اردگرد نظر دوڑائی۔
کارکن اپنے کام میں ایسے مگن تھے جیسے برسوں سے یہی معمول ہو۔
کوئی بوتلیں بند کر رہا تھا۔
کوئی لکڑی کے کریٹ ترتیب دے رہا تھا۔
کوئی ٹرالی دھکیلتے ہوئے اسٹور کی طرف جا رہا تھا۔
ہر چیز میں ایک ایسی روانی تھی جسے دیکھ کر کسی اجنبی کے ذہن میں معمولی سا بھی شبہ پیدا نہ ہو۔
"کافی پرانا ادارہ معلوم ہوتا ہے۔"
مراد نے چلتے چلتے کہا۔
"پچیس برس ہونے کو آئے۔"
سلیم نے فخر سے جواب دیا۔
"مالک نے شروع صرف چند چھتوں سے کیا تھا۔ آج ملک کے کئی شہروں میں سپلائی جا رہی ہے۔"
مراد نے ہلکے سے سر ہلایا۔
"محنت رنگ لے آئی۔"
"الحمداللہ۔"
دونوں واپس سیلز ایریا کی طرف آ گئے۔
مراد نے مختلف اقسام کے شہد کی چند بوتلیں منتخب کیں۔
ادائیگی کرتے ہوئے اس نے ایک آخری نظر پورے احاطے پر ڈالی۔
چھتوں کے اوپر منڈلاتی مکھیاں۔۔۔!
دھوپ میں چمکتا شیشہ۔۔۔!
بوتلوں میں بند ہوتا سنہرا شہد۔۔!
سیاحوں کی بےفکر گفتگو۔۔!
اور ان سب کے درمیان ایک ایسا معمول، جو پہلی نظر میں مکمل طور پر حقیقی محسوس ہوتا تھا۔
چند منٹ بعد اس کی گاڑی پہاڑی سڑک پر واپس اتر رہی تھی۔
وہ شہد خرید کر جا رہا تھا...
لیکن جس سوال کے ساتھ آیا تھا، وہ ابھی بھی اس کے ساتھ تھا۔
بلکہ اب اس نے ایک اور فیصلہ کر لیا تھا۔
اس جگہ کو دن کی روشنی میں دیکھ لیا گیا تھا۔
اصل جواب شاید رات اپنے ساتھ لائے گی۔
دوسرا حصہ
اشعر نے لکڑی کا بھاری کریٹ دونوں ہاتھوں سے اٹھایا، چند قدم چل کر اسے دوسرے مزدور کے ساتھ ٹرالی پر رکھا اور پیشانی پر ابھر آنے والا پسینہ کلائی سے صاف کر دیا۔
صبح سے وہ اسی کام میں لگا ہوا تھا۔
کبھی شہد سے بھرے فریم ایک شیڈ سے دوسرے شیڈ تک پہنچاتا، کبھی خالی ڈرم گودام میں رکھواتا، کبھی پیکنگ کے لیے آنے والے کارٹن ترتیب دیتا۔ کیمپ میں کوئی بھی کام ایسا نہ تھا جو صرف ایک آدمی کرتا ہو۔ ہر مزدور دوسرے کے ہاتھ بٹاتا تھا اور یہی وجہ تھی کہ پورا نظام بغیر شور شرابے کے چلتا رہتا تھا۔
دور شہد نکالنے والی مشینوں کی مسلسل گونج فضا میں گھلی ہوئی تھی۔
کبھی کسی سپروائزر کی آواز بلند ہوتی،
"یہ ڈرم پہلے گاڑی میں رکھو..."
اور اگلے ہی لمحے پھر وہی معمول کی مصروفیت واپس آ جاتی۔
اشعر نے پانی کی بوتل سے ایک گھونٹ لیا اور نظریں بےاختیار پورے کیمپ پر دوڑا دیں۔
چند گھنٹے یہاں گزارنے کے بعد اسے ایک بات صاف محسوس ہونے لگی تھی۔
یہاں کام کرنے والے مزدور دو طرح کے تھے۔
ایک وہ جن کی صبح چھتوں کے درمیان شروع ہوتی اور شام پیکنگ شیڈ میں ختم۔
اور دوسرے...
جو مزدور کہلاتے ضرور تھے، مگر شہد کے کام سے ان کا تعلق نہ ہونے کے برابر تھا۔
وہ دونوں ابھی مینیجر کی سفید ڈبل کیبن گاڑی کے پاس کھڑے تھے۔
ایک گیلا کپڑا لیے باڈی صاف کر رہا تھا۔
دوسرا شیشوں پر پانی کا چھڑکاؤ کر رہا تھا۔
چند منٹ بعد وہ دفتر کے برآمدے میں جھاڑو دیتے اور کھڑکیوں کے شیشے صاف کرتے دکھائی دیے۔
یہ منظر عجیب ضرور تھا...
لیکن اتنا عجیب بھی نہیں کہ پہلی نظر میں شک پیدا کرے۔
کسی بڑے ادارے میں مینیجر کے ذاتی کاموں کے لیے دو ملازم مقرر ہونا غیر معمولی بات نہیں تھی۔
اصل بات کچھ اور تھی۔
اشعر نے صبح سے اب تک انہیں شہد کے کسی کام میں ہاتھ لگاتے نہیں دیکھا تھا۔
نہ چھتوں کے قریب۔۔
نہ پیکنگ شیڈ میں۔۔
نہ شہد نکالنے والی مشینوں کے پاس۔
دوپہر کے قریب وہ دونوں ایک بار پھر نظروں سے اوجھل ہوئے۔
کچھ دیر بعد ندی جعفر کے کنارے بندھی کشتی پانی پر ہلکے ہلکے ڈولتی نظر آئی۔
انہی دونوں میں سے ایک چپو سنبھالے ہوئے تھا، دوسرا جال درست کر رہا تھا۔
کیمپ کے ایک مزدور نے ہنستے ہوئے قریب کھڑے ساتھی سے کہا،
"آج پھر صاحب کی میز کے لیے تازہ مچھلی آئے گی۔"
چند لوگ مسکرا دیے اور اپنے اپنے کام میں لگ گئے۔
اشعر نے بھی ہلکی سی مسکراہٹ لبوں پر آنے دی، مگر اس کی نظر کشتی پر ہی رہی۔
کیمپ کے ایک کنارے، چیڑ کے درختوں کے نیچے لکڑی کی چند لمبی بینچیں رکھی تھیں۔ مزدور اپنے اپنے برتن اٹھائے وہیں آ بیٹھے۔ کسی کے پاس دال تھی، کسی کے پاس آلو کی ترکاری، کوئی روٹی کو چائے میں ڈبو کر کھا رہا تھا۔
پہاڑی علاقوں میں کام کرنے والوں کی باتیں بھی زیادہ تر موسم کے گرد گھومتی تھیں۔
"اس سال پھول دیر سے آئے ہیں۔"
"بارش ایک ہفتہ پہلے ہو جاتی تو پیداوار اور اچھی ہوتی۔"
"اوپر والے ڈھلوان پر اس دفعہ ریچھ بھی دکھائی دیا تھا۔"
اشعر خاموشی سے سنتا رہا۔
اسی دوران اس نے دیکھا کہ وہ دونوں مخصوص مزدور اس مجمع کا حصہ نہیں تھے۔
بلکہ وہ دونوں مینجر کے ویٹنگ روم میں بیٹھے تھے۔
اشعر پر بات مکمل کھل گئی تھی کہ ان کا تعلق باقی مزدوروں سے کم، مینیجر سے زیادہ ہے۔
شام تک کام اپنی رفتار سے چلتا رہا۔
کبھی شہد سے بھرے ڈرم ایک گودام میں رکھے جاتے، کبھی خالی بوتلوں کے کارٹن دوسرے گودام سے نکالے جاتے، کبھی تیار شدہ مال گاڑی میں لادا جاتا۔
کیمپ میں اسٹور رومز کی کمی نہیں تھی۔
ہر ایک کا مقصد الگ تھا۔
کسی میں شیشے کی بوتلیں رکھی تھیں، کسی میں موم کے بلاکس، کسی میں خالی کریٹس، تو کسی میں تیار شدہ شہد کے کارٹن۔
اشعر بھی کئی بار مختلف اسٹور رومز تک گیا۔
جہاں جس چیز کی ضرورت ہوتی، متعلقہ مزدور سٹور میں جاتے، سامان رکھتے یا اٹھاتے اور دروازہ دوبارہ بند ہو جاتا۔
ہر چیز بالکل معمول کے مطابق تھی۔
شام ڈھلتے ڈھلتے مزدوروں کی تعداد کم ہونے لگی۔
سیاح واپس جا چکے تھے۔
صرف کیمپ کا عملہ باقی رہ گیا تھا۔
اشعر نے ایک نظر پورے احاطے پر ڈالی۔
دن بھر کی مشقت کے بعد اشعر کے ہاتھ کوئی ٹھوس سراغ نہیں آیا تھا۔ البتہ ایک بات اب واضح ہونے لگی تھی۔ یہ دونوں آدمی اس کیمپ کے دوسرے مزدوروں جیسے نہیں تھے۔ شہد بنانے والی کمپنی کے ملازم ضرور تھے، مگر وہ مینجر کے ذاتی ملازموں کی طرح کام کرتے نظر آرہے تھے۔۔ابھی یہ صرف ایک اندازہ تھا،لیکن اس کا دل کہہ رہا تھا کہ رات کی کشتی سے جڑے دونوں اجنبی یہی ہو سکتے ہیں۔
آخری حصہ
رات پوری طرح اتر چکی تھی۔
پہاڑوں کی ڈھلوانیں اب صرف سیاہ سایوں کی صورت دکھائی دیتی تھیں۔ ندی جعفر کی مدھم آواز تاریکی میں پہلے سے زیادہ واضح محسوس ہو رہی تھی۔ کبھی پانی کسی چٹان سے ٹکراتا تو اس کی بازگشت چند لمحوں تک خاموش فضا میں تیرتی رہتی، پھر سب کچھ دوبارہ پرسکون ہو جاتا۔
مراد ایک بڑے پتھر کی اوٹ میں بیٹھا تھا۔
اس نے سیاہ شرٹ کی آستین ذرا اوپر کی، کلائی پر بندھی گھڑی پر نظر ڈالی اور پھر مخصوص دوربین آنکھوں سے لگا لی۔
اس کا لباس اس رات کے لیے سوچ سمجھ کر منتخب کیا گیا تھا۔
سادہ سیاہ شرٹ، چست سیاہ پینٹ اور نرم تلے والے جوتے، جو پتھروں پر چلتے ہوئے بھی آواز پیدا نہ کرتے تھے۔
اس کے سامنے کچھ فاصلے پر شفا ہنی فارمز کا کیمپ خاموش کھڑا تھا۔
دن بھر کی رونق ختم ہو چکی تھی۔
چند بلب اب بھی جل رہے تھے، مگر ان کی روشنی صرف کیمپ کے قریب تک محدود تھی۔ اس سے آگے ہر چیز تاریکی کے حوالے تھی۔
وقت آہستہ آہستہ گزرتا رہا۔
اچانک دوربین کے لینز میں ایک ہلکی سی حرکت ابھری۔
دو دھندلے سائے کیمپ کے ایک کنارے سے نمودار ہوئے۔
وہ کسی گاڑی کو دھکیل رہے تھے۔
مراد نے دوربین کی فوکس درست کی۔
وہ ایک چھوٹا سا لوڈر تھا۔
انجن بند تھا۔
شاید اسی لیے اسے دھکیلا جا رہا تھا۔
لوڈر چند گز آگے پہنچا تو دونوں آدمی اس پر سوار ہوئے۔
اگلے ہی لمحے انجن کی مدھم سی آواز سنائی دی اور گاڑی آہستہ آہستہ پہاڑی درے کی طرف بڑھنے لگی۔
مراد نے دوربین نیچے رکھی۔
لوڈر زیادہ دور نہیں جا رہا تھا۔
وہ فوراً اپنی جگہ سے نکلا اور محتاط قدموں سے ان کے تعاقب میں چل پڑا۔
اس نے رفتار کبھی اتنی تیز نہ ہونے دی کہ ڈھیلے پتھر لڑھک جائیں، اور نہ اتنی سست کہ لوڈر نظروں سے اوجھل ہو جائے۔
چند منٹ بعد درہ سامنے تھا۔
پہاڑ یہاں دونوں طرف سے قریب آ گئے تھے اور درمیان میں صرف ایک کچا راستہ بچا تھا۔
مراد ایک بڑی چٹان کی اوٹ میں رک گیا۔
لوڈر اس سے کچھ آگے جا کر رک چکا تھا۔
اوٹ میں ہونے کی وجہ سے چہروں کی پہچان ممکن نہیں تھی۔
چند لمحے گزرے۔
پھر درے کے دوسری طرف سے دو اور سائے نمودار ہوئے۔
ان میں سے ایک نے کندھے سے ایک لکڑی کا کریٹ اتارا۔
دوسرے نے بھی ویسا ہی ایک کریٹ زمین پر رکھا۔
کوئی غیر ضروری گفتگو نہیں ہوئی۔
صرف چند مختصر جملے، جو فاصلے کی وجہ سے مراد تک نہ پہنچ سکے۔
دونوں کریٹ لوڈر پر رکھ دیے گئے۔
مراد نے دوربین دوبارہ آنکھوں سے لگا لی۔
لکڑی کے کریٹ عام معلوم ہوتے تھے، مگر ان پر کوئی کمپنی کا نشان، کوئی نمبر، کوئی ترسیلی مہر دکھائی نہ دی۔
بس سادہ، مضبوط لکڑی۔۔۔
جیسے ان کی اصل شناخت جان بوجھ کر چھپا دی گئی ہو۔
چند ہی لمحوں بعد وہ دونوں سائے اسی خاموشی سے واپس درے کے پار گم ہو گئے۔
لوڈر نے رخ موڑا۔
مراد نے فوراً ایک قدم پیچھے ہٹایا اور چٹان کے سائے میں سمٹ گیا۔
گاڑی اس کے سامنے سے چند گز کے فاصلے سے گزری۔
مخصوص دوربین نے اب اس میں بیٹھے دونوں آدمیوں کے چہرے واضح کر دیے تھے۔
وہ اب جان گیاتھا ۔۔۔
کہ وہ اب جان گیا تھا... کیمپ تک پہنچنے والے سامان کا اصل سرا اسی درے میں چھپا تھا
وہ پہاڑ کے اُس پار سے اس درے کے ذریعے کیمپ میں پہنچایا جاتا تھا۔
مراد نے ایک گہرا سانس لیا۔
اب اس کے سامنے تفتیش کی زنجیر کا ایک اور سرا آ چکا تھا۔
کریٹس کی ساخت نے دیکھ کر اس کو عجیب سا احساس ہوا تھا ، جس کو وہ کوئی نام دینے سے ابھی قاصر تھا۔۔ اب لوڈر اندھیرے میں گم ہوگیا تھا۔
لوڈر کی مدھم آواز آہستہ آہستہ کیمپ کے قریب آ کر تھم گئی۔
اشعر اپنے کمرے کے باہر ستون کے ساتھ خاموش کھڑا تھا۔
کیمپ کے زیادہ تر بلب بجھ چکے تھے۔ صرف چند ضروری مقامات پر پیلی روشنی جل رہی تھی، جو اندھیرے کو ختم کرنے کے بجائے مزید گہرا محسوس کرا رہی تھی۔
اسی دھندلی روشنی میں اس نے دیکھا
وہی دو مزدور لوڈر سے اترے۔
انہوں نے ادھر اُدھر ایک سرسری نظر ڈالی، پھر پچھلے حصے کی طرف بڑھے۔
لوڈر پر رکھے لکڑی کے دونوں کریٹ ایک ایک کر کے نیچے اتارے گئے۔
وہ دونوں کسی جلدی میں نہیں تھے۔
کیمپ کے عقب میں ایک قطار سے کئی اسٹور روم بنے ہوئے تھے۔
دن کے وقت اشعر ان میں سے اکثر کے اندر جا چکا تھا۔
کسی میں خالی بوتلیں تھیں، کسی میں شہد کے ڈرم، کسی میں پیکنگ کا سامان۔
وہ دونوں ان میں سے کسی کی طرف نہیں گئے۔
وہ قطار کے آخری سرے پر واقع ایک نسبتاً الگ تھلگ اسٹور روم کے سامنے رکے تھے۔
ایک نے جیب سے چابی نکال کر تالا کھولا اور کریٹ ایک ایک کر کے اندر منتقل کر دیے۔
دروازہ دوبارہ مقفل ہوا۔
دونوں ایسے واپس پلٹے جیسے ابھی کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
اشعر نے اس رات مزید کوئی حرکت نہ دیکھی۔
اگلا دن بظاہر ہر دوسرے دن جیسا تھا۔
سیاح آتے رہے، شہد کی خرید و فروخت ہوتی رہی، مشینیں چلتی رہیں، اور اشعر بھی دوسرے مزدوروں کے ساتھ معمول کے کام کرتا رہا۔ کئی بار اس کی خواہش ہوئی کہ کسی بہانے اس اسٹور روم تک پہنچ جائے، مگر اس حصے کا دروازہ پورا دن بند رہا، اور کوئی مزدور وہاں پھٹکنے کی بھی جرأت نہیں کرتا تھا۔
اگلی رات۔۔
ندی جعفر پر ایک بار پھر خاموشی اتر آئی تھی۔
اشعر اس رات پہلے سے زیادہ محتاط تھا۔
وہ جانتا تھا کہ اگر اس کا اندازہ درست ہے تو درے سے آیا ہوا سامان اب اپنی اگلی منزل کی طرف روانہ ہوگا۔
رات کا پچھلا پہر شروع ہوتے ہی وہی دو مزدور دوبارہ نمودار ہوئے۔
اس بار ان کے قدم سیدھے اسی اسٹور روم کی طرف اٹھے۔
چابی تالا میں گھومی۔
دروازہ کھلا۔
اندر کی روشنی صرف چند لمحوں کے لیے جلی۔
پھر پہلا کریٹ باہر آیا۔
اس کے بعد دوسرا۔
دونوں نے انہیں ایک چھوٹی ٹرالی پر رکھا اور خاموشی سے ندی کی طرف بڑھ گئے۔
اشعر مناسب فاصلے سے ان کے پیچھے چلتا رہا۔
درختوں کی اوٹ ختم ہوئی تو ندی کنارے بندھی وہی کشتی نظر آ گئی۔
دونوں مزدوروں نے پوری مہارت سے کریٹ کشتی میں رکھے، انہیں مضبوطی سے جما کر رسیوں سے باندھا اور پھر انجن اسٹارٹ کرنے کے بجائے پہلے کشتی کو ہاتھوں سے پانی میں دھکیلا۔
چند گز آگے جا کر انجن کی مدھم آواز ابھری۔
کشتی پانی کے بہاؤ کے ساتھ جنوب کی سمت بڑھنے لگی۔
اشعر کنارے پر کھڑا اسے دور جاتے دیکھتا رہا۔۔۔۔۔
1 Comments:
Good suspense creation 👍
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home