1— رات کے سائے ( باب دوئم)
پہلا حصہ
دوسرا حصہ
ذرا دائیں طرف سے چلتا ہوا دوبارہ کنارے کی طرف آیا۔
دونوں راستوں میں صرف چند قدم کا فرق تھا۔
لیکن ایک بات مشترک تھی۔
دونوں کا اختتام اسی مقام پر ہوتا تھا جہاں ندی خاموشی سے بہہ رہی تھی۔
مراد کنارے پر آ کر رک گیا۔
دن کی روشنی میں یہ جگہ بالکل عام محسوس ہوتی تھی۔
یہاں کوئی بھی پکنک منا سکتا تھا۔
مچھلی پکڑ سکتا تھا۔
کشتی باندھ سکتا تھا۔
اور شاید...
رات کے آخری پہر چند منٹ کے لیے کسی ایسی چیز کا تبادلہ بھی کر سکتا تھا، جسے دن کی روشنی کبھی دیکھ نہ سکے۔
اس نے ایک گہرا سانس لیا۔
ندی کی نمی اب بھی ہوا میں گھلی ہوئی تھی۔
مگر اس کے ذہن میں ایک بات آہستہ آہستہ اپنی جگہ بنا رہی تھی۔
رات کو اس نے جو دیکھا تھا، وہ اتفاق نہیں تھا۔
لیکن یہ جان لینا...
اور یہ ثابت کر دینا...
دونوں میں ابھی بہت فاصلہ تھا۔
وہ مڑا اور کشتی کی طرف واپس چل دیا، جبکہ ندی جعفر اپنی خاموش رفتار سے ایسے بہہ رہی تھی جیسے اسے انسانوں کے رازوں سے کبھی کوئی دلچسپی ہی نہ رہی ہو۔
تیسرا حصہ
"صاحب؟"
ملاح نے کشتی کی رسی کھولتے ہوئے آواز دی۔
"چلیں؟"
مراد نے مختصر سا سر ہلایا اور کشتی میں آ بیٹھا۔
رسی پانی میں گری، پھر ایک جھٹکے سے اوپر آئی۔ انجن نے دو تین بار کھانسا اور پھر یکساں رفتار سے چلنے لگا۔
کشتی کنارے سے الگ ہو گئی۔
پانی میں بنتی لہریں چند لمحوں کے لیے سورج کی روشنی کو توڑتیں، پھر ندی انہیں اپنے ساتھ بہا لے جاتی۔
کچھ دیر دونوں خاموش رہے۔
ملاح نے جیب سے رومال نکال کر ماتھے کا پسینہ پونچھا۔
"دوپہر چڑھنے لگی ہے۔"
مراد نے صرف "ہاں" کہا۔
پھر خاموشی۔
چند لمحے بعد ملاح خود ہی بول پڑا۔
"لوگ اس طرف کم ہی آتے ہیں۔"
مراد نے نظریں پانی سے نہیں ہٹائیں۔
"کیوں؟"
"دیکھنے کو کچھ خاص نہیں۔ ادھر والے کنارے پر ہوٹل، باغ، پہاڑ... سب ہے۔ اِدھر تو بس جھاڑیاں ہیں، کچی زمین ہے، اور آگے پرانے گودام۔"
مراد نے پہلی بار اس کی طرف دیکھا۔
"گودام؟"
"پرانے ہیں۔ آدھے بند پڑے رہتے ہیں۔ کبھی کوئی ٹرک آ جائے تو آ جائے، ورنہ اللہ اللہ خیر سلا۔"
وہ ہنس دیا۔
"ہم ملاحوں کا ان سے کیا واسطہ۔"
مراد نے کوئی اور سوال نہیں کیا۔
اس نے صرف ایک لمحے کے لیے پیچھے مڑ کر اس کنارے کو دیکھا۔
دھوپ میں نہاتا ہوا وہ ٹکڑا اب بھی اتنا ہی عام لگ رہا تھا۔
رات کی سیاہی اس جگہ سے ایسے مٹ چکی تھی جیسے کبھی تھی ہی نہیں۔
کشتی ندی کے وسط میں پہنچی تو ہوا کچھ تیز ہو گئی۔
سطحِ آب پر چھوٹی چھوٹی لہریں ایک دوسرے کے تعاقب میں دوڑنے لگیں۔
دور ایک سفید بگلا اچانک پانی پر جھپٹا، چونچ میں مچھلی دبوچی اور دوبارہ ہوا میں بلند ہو گیا۔
مراد کی نظریں کچھ دیر اس پر رہیں۔
قدرت میں ہر حرکت کا ایک سبب ہوتا ہے۔
انسانوں کی دنیا میں...
ہر سبب نظر نہیں آتا۔
چند لمحوں بعد ہوٹل کا گھاٹ سامنے تھا۔
ملاح نے کشتی کنارے لگا دی۔
مراد اترنے لگا تو ملاح نے مسکراتے ہوئے کہا،
"صاحب، شام کا سورج بھی ادھر سے خوب دکھائی دیتا ہے۔ اگر وقت ہو تو ایک چکر اور لگا لیجیے گا۔"
مراد نے کرایہ ادا کیا۔
"... کسی اور دن۔"
وہ مڑا اور پتھریلا رستہ چڑھنے لگا۔
دوپہر کی دھوپ اب تیز ہو چکی تھی۔
پرل ہوٹل پہلے جیسا ہی تھا۔
لان میں بچے کھیل رہے تھے۔
ریستوران کے باہر ایک خاندان تصویریں بنوا رہا تھا۔
استقبالیے میں نئے مہمان اپنا سامان رکھوا رہے تھے۔
ہر چیز معمول کے مطابق تھی۔
وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھا۔
اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ شام ڈھلتے ہی رفیع نگر واپس جائے گا۔
وہ اس واقعے کا ذکر اپنے جونئیر اشعر سے کرنا چاہتا تھا
چوتھا حصہ
رفیع نگر کی شام ہمیشہ جلدی اترتی تھی۔
خاص طور پر گرمیوں کے اختتام پر، جب سورج ڈھلنے لگتا تو شیشے کی بلند عمارتوں کے درمیان سنہری روشنی چند منٹ کے لیے ٹھہر جاتی، پھر اچانک کہیں گم ہو جاتی۔ سڑکوں پر دفتر سے واپس آنے والوں کا رش بڑھ چکا تھا۔ ٹریفک سگنل پر گاڑیوں کی قطاریں بنتیں، کھلتیں اور دوبارہ جم جاتیں۔ فٹ پاتھ پر چلتے لوگوں کے ہاتھوں میں خریداری کے تھیلے اور موبائل فون تھے۔ شہر ایک اور دن اپنے کندھوں سے اتار رہا تھا۔
حسن کیفے اسی ہنگامے کے درمیان ایک مانوس جگہ تھا۔
اندر ہلکی جاز موسیقی مدھم آواز میں بج رہی تھی۔ کافی مشین وقفے وقفے سے بھاپ چھوڑتی تو بھنی ہوئی کافی کی خوشبو پورے ہال میں پھیل جاتی۔ لکڑی کی میزوں پر زرد روشنی کے چھوٹے لیمپ جل رہے تھے۔
اشعر ہمیشہ کی طرح کھڑکی کے پاس والی میز پر بیٹھا تھا۔
مراد کو اندر آتے دیکھ کر اس نے ہاتھ ہلایا۔
"آخرکار جناب کو شہر یاد آ ہی گیا۔"
مراد کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔
"شہر کہیں گیا ہی کب تھا؟"
"تم ہی غائب تھے۔"
ویٹر قریب آ گیا۔
"سر، کیا لاؤں؟"
مراد نے مینو کی طرف دیکھے بغیر کہا،
"بلیک کافی۔"
اشعر نے کہا،
"میرے لیے دودھ پتی... چینی کم۔"
ویٹر آرڈر لکھ کر چلا گیا۔
اشعر نے کھڑکی سے باہر ایک نظر ڈالی۔
"لگتا ہے اس بار بارش دیر سے آئے گی۔"
"صبح سے عجیب سی گھٹن ہے۔"
مراد نے بھی باہر دیکھا۔
"ہوا میں نمی بڑھ گئی ہے۔ دو تین دن میں برس جائے تو حیرت نہیں ہوگی۔"
اشعر ہنس پڑا۔
"تم موسم بھی ایسے بتاتے ہو جیسے فرانزک رپورٹ پڑھ رہے ہو۔"
مراد نے کندھے اچکائے۔
"عادت ہے۔"
"ویسے جنگل پوائنٹ کا ماحول شہر سے الگ الگ لگتا ہے"
اشعر کی مسکرا کر کہا۔
"ہاں؟"
اسی وقت ویٹر دونوں کے سامنے کپ رکھ گیا۔
بھاپ اٹھنے لگی۔
کچھ لمحے دونوں نے اپنے اپنے کپ سنبھالے۔
اشعر نے چائے کا پہلا گھونٹ لیا۔
"اب بتاؤ بھی۔"
مراد نے کافی کی خوشبو سونگھی، پھر آہستہ سے کپ میز پر رکھ دیا۔
"کل رات میں کوئی ایک بجے کے قریب ندی جعفر کے کنارے بیٹھا تھا۔"
اشعر نے سر ہلایا۔
"ندی کے دوسرے کنارے پر... شہر والی طرف... ایک کشتی آئی۔"
روشنی تقریباً نہیں تھی۔ انجن کی آواز بھی سنائی نہیں دی۔ اگر پانی پر نظر نہ ہوتی تو شاید مجھے اس کا پتہ بھی نہ چلتا۔وہ تھوڑی دیر کنارے رہی، اس میں سے کچھ سامان تین لوگوں نے مل کر نکالا، اور قریب جھاڑیوں میں کھڑے ٹرک میں لوڈ کیا اور دو لوگ اسی طرح کشتی کے ذریعے واپس چلے گئے۔۔۔۔ میں صبح اس جگہ گیا، وہ کوئی ایسی خاص جگہ نہیں ہے لیکن اس جگہ سے آسانی یہ ہے کہ شہر میں آئے بغیر وہاں سے شہر میں سامان آسانی سے لایا جارہا ہے، ٹرک کو مشکل سے تین منٹ کچے راستے پر سفر کرنا پڑتا ہے اور جعفر روڈ اس کے ٹائروں تلے ہوتا ہے۔۔۔ میری چھٹی حس احساس دلا رہی ہے کہ اس جگہ کو کسی خاص مقصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔
کیفے کے دروازے سے ایک خاندان اندر داخل ہوا۔ بچوں کی آوازیں، کرسیوں کے کھسکنے کی آواز، ویٹر کا مسکراتے ہوئے استقبال!
پھر ماحول دوبارہ معمول پر آ گیا۔
مراد نے کافی کا ایک گھونٹ لیا۔
"میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ رات کے اس وقت وہاں کسی کا آنا معمول کی بات نہیں تھی۔"
اشعر نے آہستہ سے سر ہلایا۔
"تو اب کیا سوچا ہے؟"
"یہ اگرچہ معمولی پولیس کیا بھی ہوسکتا ہے لیکن میں اپنی تسلی کے لیے چاہتا ہوں کہ ہم دونوں اس پر ابتدائی تحقیق کریں، اگر کوئی معمولی مسئلہ نکلا تو پولیس کے حوالے کر دیں گے، ورنہ اپنا محکمہ تو ہے ہی"
اشعر نے کچھ سوچتے ہوئے سر ہلایا اور مراد اس کو مزید تفصیل بتانے لگا۔
کیفے کے باہر شہر حسبِ معمول مصروف تھا۔
اور شہر کے پہلو میں بہتی ندی جعفر ایک اور رات کا انتظار کر رہی تھی۔
آخری حصہ
رات اپنی گہرائی کو پہنچ چکی تھی۔
ندی جعفر کا پانی اندھیرے میں سیاہ شیشے کی طرح پھیلا ہوا تھا۔ کبھی ہلکی سی لہر کنارے سے آ ٹکراتی تو یوں محسوس ہوتا جیسے کسی نے خاموشی کے جسم پر انگلی رکھ دی ہو۔ اس کے بعد پھر وہی سکوت... وہی بےحرکت فضا۔
جھاڑیوں کے عقب میں بیٹھا اشعر مسلسل ندی پر نظر رکھے ہوئے تھا۔
وقت جیسے آہستہ چلنے لگا تھا۔
پھر دور پانی کے سینے پر ایک دھندلا سا سایہ ابھرا۔
وہی کشتی۔۔۔
نہ کوئی نمایاں روشنی، نہ انجن کی آواز۔
وہ سیدھی اسی مقام پر آ کر رکی جہاں گزشتہ رات مراد نے اسے دیکھا تھا۔
دو آدمی اترے۔
ان کی حرکات میں عجلت نہیں تھی، مگر ایک عجیب سی مشق ضرور تھی، جیسے ہر قدم پہلے سے طے شدہ ہو۔
جھاڑیوں کے پیچھے پہلے سے کھڑا ٹرک خاموشی سے ان کا منتظر تھا۔
اس کی لائٹس بند تھیں۔
انجن بھی۔
کشتی سے ایک کے بعد ایک لمبوترے صندوق اور مضبوطی سے بند پیکٹ اتارے جانے لگے۔ ہر چیز احتیاط سے ٹرک میں رکھی جا رہی تھی۔ نہ کوئی غیر ضروری آواز، نہ ایک لفظ کی گفتگو۔
چند ہی منٹوں میں کشتی خالی ہو چکی تھی۔
ٹرک کا پچھلا دروازہ بند ہوا۔
کشتی کی رسیاں کھلیں، کشتی نے آہستہ سے کنارہ چھوڑا اور جس خاموشی سے آئی تھی، اسی خاموشی سے ندی کے اندھیرے میں تحلیل ہوتی چلی گئی۔
کچھ لمحے بعد ٹرک کا انجن دھیمی سی کپکپاہٹ کے ساتھ زندہ ہوا۔
لائٹس اب بھی بند تھیں۔
وہ آہستہ آہستہ کچے راستے پر بڑھا، جھاڑیوں کے درمیان سے گزرا اور اشعر کی نظروں سے اوجھل ہو گیا۔
اشعر نے اپنی جگہ نہیں بدلی۔
اس کی توجہ اب اس موڑ پر تھی جہاں کچا راستہ جا کر جعفر روڈ میں ملتا تھا۔
چند لمحوں بعد اندھیرے کے اُس کنارے پر دو سفید شعاعیں اچانک روشن ہوئیں۔
ٹرک جعفر روڈ پر آ چکا تھا۔
اب وہ کسی عام مال بردار گاڑی کی طرح دکھائی دے رہا تھا۔
نہ اس کی رفتار غیر معمولی تھی، نہ انداز۔
چند سو گز آگے پولیس چوکی تھی۔
ٹرک بغیر رکے اس کے سامنے سے گزرا۔
ڈیوٹی پر موجود اونگھتے اہلکار نے عادتاً ایک نظر ڈالی اور پھر آنکھیں موند لیں۔۔۔
ٹرک شہر کی سمت بڑھتا گیا۔
صرف ہوا تھی، جو خشک گھاس کے سروں سے کھیل رہی تھی۔
اس دوران کچے راستے پر ایک اور حرکت ابھری۔ایک سیاہ موٹر سائیکل آہستہ آہستہ موڑ سے نکل کر جعفر روڈ پر آئی۔ اس کی ہیڈ لائٹس ابھی بند تھیں ۔۔ وہ چند لمحے سڑک کے کنارے رکا رہا، جیسے دور جاتے ٹرک اور اپنے درمیان مناسب فاصلہ ناپ رہا ہو۔پھر موٹر سائیکل خاموشی سے آگے بڑھ گئی۔رفتار نہ زیادہ تھی، نہ کم۔۔۔بس اتنی کہ آگے جاتا ہوا ٹرک ۔۔ نظروں سے اوجھل نہ ہو۔
ندی جعفر کے کنارے پھر سکوت اتر آیا۔
جیسے وہاں کبھی کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home