11 July 2026

1— رات کے سائے ( باب دوئم)

پہلا حصہ

صبح کی دھوپ پہاڑیوں کے پیچھے سے آہستہ آہستہ نکل رہی تھی۔
رات بھر شبنم اوڑھے رہنے والی گھاس پر سورج کی پہلی کرنیں پڑیں تو ہر قطرہ چند لمحوں کے لیے سونے کی باریک سی بوند بن گیا۔ باغیچے کے کنارے لگے گلاب کے پھول ہلکی ہوا کے ساتھ دھیرے دھیرے جھول رہے تھے۔ کہیں دور کسی کوئل نے ایک لمبی کوک لگائی، پھر جیسے پورا جنگل چند لمحوں کے لیے اس کی آواز سنتا رہ گیا۔
پرل ہوٹل ابھی پوری طرح بیدار نہیں ہوا تھا۔
کچن کے عقبی حصے سے برتنوں کی مدھم کھنک سنائی دے رہی تھی۔ ایک مالی لان کی پگڈنڈی پر جھکی ہوئی شاخیں تراش رہا تھا۔ دو ملازم برآمدے میں رکھی لکڑی کی میزیں دھوپ کی سمت کھسکا رہے تھے تاکہ ناشتے کے وقت مہمانوں کو سایہ میسر رہے۔
ہوا میں تازہ کافی، مکھن میں سینکی ہوئی ڈبل روٹی اور گیلی مٹی کی ملی جلی خوشبو تیر رہی تھی۔
مراد ریستوران میں داخل ہوا۔
کھڑکی کے قریب والی میز حسبِ معمول خالی تھی۔
اس نے کرسی کھینچی، بیٹھا اور چند لمحے خاموشی سے باہر دیکھتا رہا۔
درختوں کے درمیان سے ندی جعفر کی صرف ایک باریک سی جھلک دکھائی دیتی تھی۔ باقی منظر سبز پتوں نے اپنے اندر چھپا رکھا تھا۔
ایک ویٹر مینو رکھ کر مؤدبانہ انداز میں بولا،
"سر، ناشتے میں کیا پیش کروں؟"
مراد نے مینو پر سرسری نظر ڈالی۔
"آملیٹ... براؤن بریڈ... اور بلیک ٹی۔"
"چینی ساتھ رکھ دوں؟"
"نہیں۔"
"جی سر۔"
ویٹر خاموشی سے چلا گیا۔
مراد نے دونوں ہاتھ میز پر رکھ دیے۔
کھڑکی سے آتی ہوا کبھی کبھی پردے کو ہلاتی اور ساتھ ہی ندی کی نمی کمرے تک لے آتی۔
قریب والی میز پر ایک بوڑھا جوڑا نقشہ پھیلائے آج کی سیر کا منصوبہ بنا رہا تھا۔ دوسری طرف ایک چھوٹا بچہ ضد کر رہا تھا کہ وہ پہلے کشتی میں بیٹھے گا، ناشتے کے بعد نہیں۔
مراد کے چہرے پر انجانے میں ہلکی سی مسکراہٹ آئی...
اور پھر ویسی ہی خاموشی لوٹ آئی، جو اس کی مستقل ساتھی تھی۔

دوسرا حصہ


ہوٹل کے عقبی حصے سے اترتی پتھریلی سیڑھیاں سیدھی ندی جعفر کے کنارے جا کر ختم ہوتی تھیں۔
صبح کی دھوپ اب پانی تک پہنچ چکی تھی۔ رات کے سیاہ پردے کی جگہ اب شفاف سبز مائل سطح نے لے لی تھی جس پر ہلکی ہلکی لہریں سورج کی کرنوں کو ٹکڑوں میں توڑ رہی تھیں۔ کنارے سے بندھی لکڑی کی کشتیاں پانی کے ساتھ آہستہ آہستہ جھول رہی تھیں۔ ان کے باہم ٹکرانے سے پیدا ہونے والی مدھم ٹھک... ٹھک... کی آواز عجیب سی تسلسل لیے ہوئے تھی، جیسے ندی اپنی ہی دھن میں کوئی پرانا گیت گنگنا رہی ہو۔

گھاٹ پر زندگی پوری طرح جاگ چکی تھی۔

دو ملاح ایک کشتی کے انجن کا ڈھکن کھولے کچھ ٹھیک کر رہے تھے۔ ایک نوجوان رسی کے موٹے پھندے کھول کر انہیں ترتیب سے لپیٹ رہا تھا۔ چند سیاح موبائل فون اٹھائے پانی کے کنارے تصویریں بنا رہے تھے۔ ایک چھوٹی بچی نے روٹی کا ٹکڑا پانی میں پھینکا تو لمحہ بھر میں کئی مچھلیاں سطح کے قریب آ کر چمکیں اور پھر غائب ہو گئیں۔

مراد کچھ فاصلے پر رکا رہا۔

اس کی نظریں کسی ایک کشتی پر نہیں تھیں۔

وہ پورے گھاٹ کو دیکھ رہا تھا۔
لوگوں کی آمدورفت...
کشتیوں کی ترتیب...
پانی کی گہرائی...
وہ مقام جہاں لکڑی کا پلیٹ فارم ختم ہو کر قدرتی کنارہ شروع ہوتا تھا۔
یہ سب وہ ایسے دیکھ رہا تھا جیسے کوئی لفظ بہ لفظ کتاب پڑھ رہا ہو۔
"صاحب، سیر کریں گے؟"
آواز دائیں طرف سے آئی۔

ایک ادھیڑ عمر ملاح مسکراتا ہوا اس کی طرف بڑھا۔ دھوپ نے اس کی پیشانی پر برسوں کی محنت کی باریک لکیریں اور نمایاں کر دی تھیں۔
"جی۔"

"آدھا گھنٹہ، ایک گھنٹہ یا جتنا کہیں۔"
مراد نے ندی کی دوسری سمت دیکھا۔

"دوسرے کنارے تک لے چلیں۔"
"وہاں؟"

ملاح نے پل بھر کو چونک کر دیکھا، پھر کندھے اچکا دیے۔
"جیسا حکم۔"

چند لمحوں بعد کشتی پانی پر تھی۔
انجن دھیمی آواز میں چل رہا تھا۔ اتنی کہ بات کرنے کے لیے آواز اونچی کرنے کی ضرورت نہ پڑے، مگر اتنی بھی نہیں کہ ندی کی اپنی آواز دب جائے۔
کشتی کنارے سے آہستہ آہستہ دور ہونے لگی۔
پانی کا رنگ بدلنے لگا۔
کنارے کے قریب وہ ہلکا سبز تھا، درمیان میں جا کر گہرا نیلا دکھائی دینے لگا۔
ہوا پہلے سے ٹھنڈی تھی۔
اس میں پانی کی نمی گھلی ہوئی تھی، جو چہرے سے ٹکراتے ہی ایک تازگی چھوڑ جاتی۔
مراد نے ہاتھ کشتی کے کنارے پر رکھا۔
لکڑی دھوپ سے نیم گرم تھی، مگر اس کے نیچے سے اٹھتی نمی اسے مسلسل ٹھنڈا کر رہی تھی۔
وہ خاموش بیٹھا رہا۔
ملاح نے بھی اس خاموشی کو گفتگو کی دعوت نہیں سمجھا۔
صرف کشتی اپنی رفتار سے آگے بڑھتی رہی۔
درمیانِ ندی پہنچ کر مراد نے بےاختیار پیچھے مڑ کر دیکھا۔
پرل ہوٹل اب درختوں کے درمیان آدھا چھپ چکا تھا۔
رات کو وہیں سے اس نے اس پار دیکھا تھا۔۔۔

ذرا دائیں طرف سے چلتا ہوا دوبارہ کنارے کی طرف آیا۔

دونوں راستوں میں صرف چند قدم کا فرق تھا۔

لیکن ایک بات مشترک تھی۔

دونوں کا اختتام اسی مقام پر ہوتا تھا جہاں ندی خاموشی سے بہہ رہی تھی۔

مراد کنارے پر آ کر رک گیا۔

دن کی روشنی میں یہ جگہ بالکل عام محسوس ہوتی تھی۔

یہاں کوئی بھی پکنک منا سکتا تھا۔

مچھلی پکڑ سکتا تھا۔

کشتی باندھ سکتا تھا۔

اور شاید...

رات کے آخری پہر چند منٹ کے لیے کسی ایسی چیز کا تبادلہ بھی کر سکتا تھا، جسے دن کی روشنی کبھی دیکھ نہ سکے۔

اس نے ایک گہرا سانس لیا۔

ندی کی نمی اب بھی ہوا میں گھلی ہوئی تھی۔

مگر اس کے ذہن میں ایک بات آہستہ آہستہ اپنی جگہ بنا رہی تھی۔

رات کو اس نے جو دیکھا تھا، وہ اتفاق نہیں تھا۔

لیکن یہ جان لینا...

اور یہ ثابت کر دینا...

دونوں میں ابھی بہت فاصلہ تھا۔

وہ مڑا اور کشتی کی طرف واپس چل دیا، جبکہ ندی جعفر اپنی خاموش رفتار سے ایسے بہہ رہی تھی جیسے اسے انسانوں کے رازوں سے کبھی کوئی دلچسپی ہی نہ رہی ہو۔

تیسرا حصہ

"صاحب؟"

ملاح نے کشتی کی رسی کھولتے ہوئے آواز دی۔

"چلیں؟"

مراد نے مختصر سا سر ہلایا اور کشتی میں آ بیٹھا۔

رسی پانی میں گری، پھر ایک جھٹکے سے اوپر آئی۔ انجن نے دو تین بار کھانسا اور پھر یکساں رفتار سے چلنے لگا۔

کشتی کنارے سے الگ ہو گئی۔

پانی میں بنتی لہریں چند لمحوں کے لیے سورج کی روشنی کو توڑتیں، پھر ندی انہیں اپنے ساتھ بہا لے جاتی۔

کچھ دیر دونوں خاموش رہے۔

ملاح نے جیب سے رومال نکال کر ماتھے کا پسینہ پونچھا۔

"دوپہر چڑھنے لگی ہے۔"

مراد نے صرف "ہاں" کہا۔

پھر خاموشی۔

چند لمحے بعد ملاح خود ہی بول پڑا۔

"لوگ اس طرف کم ہی آتے ہیں۔"

مراد نے نظریں پانی سے نہیں ہٹائیں۔

"کیوں؟"

"دیکھنے کو کچھ خاص نہیں۔ ادھر والے کنارے پر ہوٹل، باغ، پہاڑ... سب ہے۔ اِدھر تو بس جھاڑیاں ہیں، کچی زمین ہے، اور آگے پرانے گودام۔"

مراد نے پہلی بار اس کی طرف دیکھا۔

"گودام؟"

"پرانے ہیں۔ آدھے بند پڑے رہتے ہیں۔ کبھی کوئی ٹرک آ جائے تو آ جائے، ورنہ اللہ اللہ خیر سلا۔"

وہ ہنس دیا۔

"ہم ملاحوں کا ان سے کیا واسطہ۔"

مراد نے کوئی اور سوال نہیں کیا۔

اس نے صرف ایک لمحے کے لیے پیچھے مڑ کر اس کنارے کو دیکھا۔

دھوپ میں نہاتا ہوا وہ ٹکڑا اب بھی اتنا ہی عام لگ رہا تھا۔

رات کی سیاہی اس جگہ سے ایسے مٹ چکی تھی جیسے کبھی تھی ہی نہیں۔

کشتی ندی کے وسط میں پہنچی تو ہوا کچھ تیز ہو گئی۔

سطحِ آب پر چھوٹی چھوٹی لہریں ایک دوسرے کے تعاقب میں دوڑنے لگیں۔

دور ایک سفید بگلا اچانک پانی پر جھپٹا، چونچ میں مچھلی دبوچی اور دوبارہ ہوا میں بلند ہو گیا۔

مراد کی نظریں کچھ دیر اس پر رہیں۔

قدرت میں ہر حرکت کا ایک سبب ہوتا ہے۔

انسانوں کی دنیا میں...

ہر سبب نظر نہیں آتا۔

چند لمحوں بعد ہوٹل کا گھاٹ سامنے تھا۔

ملاح نے کشتی کنارے لگا دی۔

مراد اترنے لگا تو ملاح نے مسکراتے ہوئے کہا،

"صاحب، شام کا سورج بھی ادھر سے خوب دکھائی دیتا ہے۔ اگر وقت ہو تو ایک چکر اور لگا لیجیے گا۔"

مراد نے کرایہ ادا کیا۔

"... کسی اور دن۔"

وہ مڑا اور پتھریلا رستہ چڑھنے لگا۔

دوپہر کی دھوپ اب تیز ہو چکی تھی۔

پرل ہوٹل پہلے جیسا ہی تھا۔

لان میں بچے کھیل رہے تھے۔

ریستوران کے باہر ایک خاندان تصویریں بنوا رہا تھا۔

استقبالیے میں نئے مہمان اپنا سامان رکھوا رہے تھے۔

ہر چیز معمول کے مطابق تھی۔


وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھا۔

اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ شام ڈھلتے ہی رفیع نگر واپس جائے گا۔


وہ اس واقعے کا ذکر اپنے جونئیر اشعر سے کرنا چاہتا تھا

چوتھا حصہ


رفیع نگر کی شام ہمیشہ جلدی اترتی تھی۔

خاص طور پر گرمیوں کے اختتام پر، جب سورج ڈھلنے لگتا تو شیشے کی بلند عمارتوں کے درمیان سنہری روشنی چند منٹ کے لیے ٹھہر جاتی، پھر اچانک کہیں گم ہو جاتی۔ سڑکوں پر دفتر سے واپس آنے والوں کا رش بڑھ چکا تھا۔ ٹریفک سگنل پر گاڑیوں کی قطاریں بنتیں، کھلتیں اور دوبارہ جم جاتیں۔ فٹ پاتھ پر چلتے لوگوں کے ہاتھوں میں خریداری کے تھیلے اور موبائل فون تھے۔ شہر ایک اور دن اپنے کندھوں سے اتار رہا تھا۔


حسن کیفے اسی ہنگامے کے درمیان ایک مانوس جگہ تھا۔


اندر ہلکی جاز موسیقی مدھم آواز میں بج رہی تھی۔ کافی مشین وقفے وقفے سے بھاپ چھوڑتی تو بھنی ہوئی کافی کی خوشبو پورے ہال میں پھیل جاتی۔ لکڑی کی میزوں پر زرد روشنی کے چھوٹے لیمپ جل رہے تھے۔


اشعر ہمیشہ کی طرح کھڑکی کے پاس والی میز پر بیٹھا تھا۔

مراد کو اندر آتے دیکھ کر اس نے ہاتھ ہلایا۔

"آخرکار جناب کو شہر یاد آ ہی گیا۔"

مراد کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔

"شہر کہیں گیا ہی کب تھا؟"

"تم ہی غائب تھے۔"

ویٹر قریب آ گیا۔

"سر، کیا لاؤں؟"

مراد نے مینو کی طرف دیکھے بغیر کہا،

"بلیک کافی۔"

اشعر نے کہا،

"میرے لیے دودھ پتی... چینی کم۔"

ویٹر آرڈر لکھ کر چلا گیا۔

اشعر نے کھڑکی سے باہر ایک نظر ڈالی۔

"لگتا ہے اس بار بارش دیر سے آئے گی۔"

"صبح سے عجیب سی گھٹن ہے۔"

مراد نے بھی باہر دیکھا۔

"ہوا میں نمی بڑھ گئی ہے۔ دو تین دن میں برس جائے تو حیرت نہیں ہوگی۔"


اشعر ہنس پڑا۔


"تم موسم بھی ایسے بتاتے ہو جیسے فرانزک رپورٹ پڑھ رہے ہو۔"


مراد نے کندھے اچکائے۔


"عادت ہے۔"


"ویسے جنگل پوائنٹ کا ماحول شہر سے الگ الگ لگتا ہے"


اشعر کی مسکرا کر کہا۔


"ہاں؟"


اسی وقت ویٹر دونوں کے سامنے کپ رکھ گیا۔


بھاپ اٹھنے لگی۔

کچھ لمحے دونوں نے اپنے اپنے کپ سنبھالے۔

اشعر نے چائے کا پہلا گھونٹ لیا۔

"اب بتاؤ بھی۔"

مراد نے کافی کی خوشبو سونگھی، پھر آہستہ سے کپ میز پر رکھ دیا۔

"کل رات میں کوئی ایک بجے کے قریب  ندی جعفر کے کنارے بیٹھا تھا۔"

اشعر نے سر ہلایا۔

"ندی کے دوسرے کنارے پر... شہر والی طرف... ایک کشتی آئی۔"


روشنی تقریباً نہیں تھی۔ انجن کی آواز بھی سنائی نہیں دی۔ اگر پانی پر نظر نہ ہوتی تو شاید مجھے اس کا پتہ بھی نہ چلتا۔وہ تھوڑی دیر کنارے رہی، اس میں سے کچھ سامان تین لوگوں نے مل کر نکالا، اور قریب جھاڑیوں میں کھڑے ٹرک میں لوڈ کیا اور دو لوگ اسی طرح کشتی کے ذریعے واپس چلے گئے۔۔۔۔ میں صبح اس جگہ گیا، وہ کوئی ایسی خاص جگہ نہیں ہے لیکن اس جگہ سے آسانی یہ ہے کہ شہر میں آئے بغیر وہاں سے شہر میں سامان آسانی سے لایا جارہا ہے، ٹرک کو مشکل سے تین منٹ کچے راستے پر سفر کرنا پڑتا ہے اور جعفر روڈ اس کے ٹائروں تلے  ہوتا ہے۔۔۔ میری چھٹی حس احساس دلا رہی ہے کہ اس جگہ کو کسی خاص مقصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔

کیفے کے دروازے سے ایک خاندان اندر داخل ہوا۔ بچوں کی آوازیں، کرسیوں کے کھسکنے کی آواز، ویٹر کا مسکراتے ہوئے استقبال!

پھر ماحول دوبارہ معمول پر آ گیا۔

مراد نے کافی کا ایک گھونٹ لیا۔

"میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ رات کے اس وقت وہاں کسی کا آنا معمول کی بات نہیں تھی۔"

اشعر نے آہستہ سے سر ہلایا۔

 "تو اب کیا سوچا ہے؟"

"یہ اگرچہ معمولی پولیس کیا بھی ہوسکتا ہے لیکن میں اپنی تسلی کے لیے چاہتا ہوں کہ ہم دونوں اس پر ابتدائی تحقیق  کریں، اگر کوئی معمولی مسئلہ نکلا تو پولیس کے حوالے کر دیں گے، ورنہ اپنا محکمہ تو ہے ہی"

اشعر نے کچھ سوچتے ہوئے سر ہلایا اور مراد اس کو مزید تفصیل بتانے لگا۔

کیفے کے باہر شہر حسبِ معمول مصروف تھا۔

اور شہر کے پہلو میں بہتی ندی جعفر ایک اور رات کا انتظار کر رہی تھی۔


آخری حصہ

رات اپنی گہرائی کو پہنچ چکی تھی۔

ندی جعفر کا پانی اندھیرے میں سیاہ شیشے کی طرح پھیلا ہوا تھا۔ کبھی ہلکی سی لہر کنارے سے آ ٹکراتی تو یوں محسوس ہوتا جیسے کسی نے خاموشی کے جسم پر انگلی رکھ دی ہو۔ اس کے بعد پھر وہی سکوت... وہی بےحرکت فضا۔

جھاڑیوں کے عقب میں بیٹھا اشعر مسلسل ندی پر نظر رکھے ہوئے تھا۔


وقت جیسے آہستہ چلنے لگا تھا۔

پھر دور پانی کے سینے پر ایک دھندلا سا سایہ ابھرا۔

وہی کشتی۔۔۔

نہ کوئی نمایاں روشنی، نہ انجن کی آواز۔

وہ سیدھی اسی مقام پر آ کر رکی جہاں گزشتہ رات مراد نے اسے دیکھا تھا۔

دو آدمی اترے۔

ان کی حرکات میں عجلت نہیں تھی، مگر ایک عجیب سی مشق ضرور تھی، جیسے ہر قدم پہلے سے طے شدہ ہو۔

جھاڑیوں کے پیچھے پہلے سے کھڑا ٹرک خاموشی سے ان کا منتظر تھا۔

اس کی لائٹس بند تھیں۔

انجن بھی۔

کشتی سے ایک کے بعد ایک لمبوترے صندوق اور مضبوطی سے بند پیکٹ اتارے جانے لگے۔ ہر چیز احتیاط سے ٹرک میں رکھی جا رہی تھی۔ نہ کوئی غیر ضروری آواز، نہ ایک لفظ کی گفتگو۔

چند ہی منٹوں میں کشتی خالی ہو چکی تھی۔

ٹرک کا پچھلا دروازہ بند ہوا۔

کشتی کی رسیاں کھلیں،  کشتی نے آہستہ سے کنارہ چھوڑا اور جس خاموشی سے آئی تھی، اسی خاموشی سے ندی کے اندھیرے میں تحلیل ہوتی چلی گئی۔

کچھ لمحے بعد ٹرک کا انجن دھیمی سی کپکپاہٹ کے ساتھ زندہ ہوا۔

لائٹس اب بھی بند تھیں۔

وہ آہستہ آہستہ کچے راستے پر بڑھا، جھاڑیوں کے درمیان سے گزرا اور اشعر کی نظروں سے اوجھل ہو گیا۔

اشعر نے اپنی جگہ نہیں بدلی۔

اس کی توجہ اب اس موڑ پر تھی جہاں کچا راستہ جا کر جعفر روڈ میں ملتا تھا۔

چند لمحوں بعد اندھیرے کے اُس کنارے پر دو سفید شعاعیں اچانک روشن ہوئیں۔

ٹرک جعفر روڈ پر آ چکا تھا۔

اب وہ کسی عام مال بردار گاڑی کی طرح دکھائی دے رہا تھا۔

نہ اس کی رفتار غیر معمولی تھی، نہ انداز۔

چند سو گز آگے پولیس چوکی تھی۔

ٹرک بغیر رکے اس کے سامنے سے گزرا۔

ڈیوٹی پر موجود اونگھتے اہلکار نے عادتاً ایک نظر ڈالی اور پھر آنکھیں موند لیں۔۔۔

ٹرک شہر کی سمت بڑھتا گیا۔

صرف ہوا تھی، جو خشک گھاس کے سروں سے کھیل رہی تھی۔


اس دوران کچے راستے پر ایک اور حرکت ابھری۔ایک سیاہ موٹر سائیکل آہستہ آہستہ موڑ سے نکل کر جعفر روڈ پر آئی۔ اس کی ہیڈ لائٹس ابھی بند تھیں ۔۔ وہ چند لمحے سڑک کے کنارے رکا رہا، جیسے دور جاتے ٹرک اور اپنے درمیان مناسب فاصلہ ناپ رہا ہو۔پھر موٹر سائیکل خاموشی سے آگے بڑھ گئی۔رفتار نہ زیادہ تھی، نہ کم۔۔۔بس اتنی کہ آگے جاتا ہوا ٹرک ۔۔ نظروں سے اوجھل نہ ہو۔

ندی جعفر کے کنارے پھر سکوت اتر آیا۔

جیسے وہاں کبھی کچھ ہوا ہی نہ ہو۔



 

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home

Begin

رفیع نگر – ایک جاسوسی دنیا