1— رات کے سائے ( چوتھا باب)
پہلا حصہ
شام آہستہ آہستہ کچی بستی کی گلیوں پر اتر رہی تھی۔
دھوپ اب عمارتوں کی دیواروں سے کھسکتی ہوئی چھتوں کے نچلے حصوں تک سمٹ گئی تھی۔ تنگ سڑک پر بچوں کا شور ابھی باقی تھا، مگر دکان دار ایک ایک کر کے اپنا سامان سمیٹنے لگے تھے۔کہیں سے تلے ہوئے سموسوں کی خوشبو آ رہی تھی، کہیں چائے کی کیتلی سے اٹھتی بھاپ شام کی ٹھنڈی ہوا میں گھل رہی تھی۔گودام سے تقریباً پچاس ساٹھ گز کے فاصلے پر، سڑک کے نکڑ پر ایک پرانا ڈھابہ تھا۔
ٹین کی چھت، لکڑی کی چند میزیں، لوہے کی بینچیں اور سامنے مٹی کا چولہا، جس پر ایک بڑی کیتلی مسلسل ابل رہی تھی۔
مراد نے اپنی سیاہ بائیک ڈھابے سے کچھ فاصلے پر دوسری موٹر سائیکلوں کے درمیان کھڑی کی اور آ کر ایک کونے کی میز سنبھال لی۔
اس نے ایسی جگہ منتخب کی تھی جہاں سے گودام پر آسانی سے نظر رکھی جاسکتی تھی۔
مراد نے کام والے لڑکے کو ایک چائے لانے کا کہا۔۔۔
گودام کا گیٹ نظر آرہا تھا ۔۔۔
گیٹ بند تھا۔
زنگ آلود لوہے کی چادروں پر شام کی آخری روشنی پڑ رہی تھی۔ آس پاس سے گزرنے والوں میں سے شاید ہی کوئی اس پر دوسری نظر ڈالتا۔
یہ اس علاقے کی ایک عام، پرانی عمارت تھی۔
یا کم از کم سب یہی سمجھتے تھے۔
چائے آ گئی۔
مراد نے کپ ہاتھ میں لیا۔
پہلا گھونٹ ابھی ہونٹوں تک پہنچا ہی تھا کہ گلی میں کرکٹ کھیلتے دو لڑکوں کی گیند گودام کی دیوار سے ٹکرا گئی۔
ایک لڑکا دوڑتا ہوا گیند لینے آیا، گیٹ کے نیچے سے گیند اٹھائی اور بغیر رکے واپس بھاگ گیا۔
لیکن کوئی باہر نہیں آیا۔
مراد کی نگاہ ایک لمحے کے لیے بھی وہاں سے نہیں ہٹی۔
وقت اپنی رفتار سے آگے بڑھتا رہا۔
ڈھابے پر لوگ بدلتے رہے۔
کوئی رک کر چائے پیتا، کوئی سگریٹ سلگا کر آگے بڑھ جاتا۔
ایک منی بس رکی۔
چند مسافر اترے۔
کسی نے بھی گودام کی طرف دلچسپی سے نہیں دیکھا۔
تقریباً دو گھنٹے بعد۔!
لوہے کے گیٹ کے اندر سے حرکت ہوئی۔
گیٹ آہستہ آہستہ کھلا۔
ایک سفید وین گیٹ سےنکلی
اور روڈ کی طرف آتی نظر آئی ۔۔
مراد نے جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ پرسکون انداز میں ڈھابے والے کے پاس جا کر چائے کے پیسے ادا کیے اور اپنی بائیک کی طرف بڑھ گیا۔
چند لمحوں بعد سیاہ بائیک اس سفید وین کے پیچھے تھی۔
فاصلہ اتنا کہ وین کے ڈرائیور کو پیچھے آنے والے کا احساس نہ ہو، اور اتنا بھی نہیں کہ وہ نظروں سے اوجھل ہو جائے۔
شہر کی کئی سڑکیں عبور کرنے کے بعد وین ایک نسبتاً پُرسکون علاقے کے ایک رہائشی پلازے کی پارکنگ میں داخل ہوئی اور چند لمحوں بعد وہ ڈرائیور اس رہائشی پلازے کی پہلی منزل کے ایک فلیٹ میں داخل ہوتا نظر آیا۔۔
مراد نے اتنی معلومات کو کافی سمجھا کیونکہ اس کے نزدیک اب اس آدمی کا پیچھا کرنا وقت کا بہترین استعمال نہیں تھا۔
اسے صرف ایک پتہ چاہیے تھا۔
اور اب اس سے آگے فراز اس کی کنڈلی نکال لے گا۔
بائیک شمالی روڈ کی طرف مڑ گئی۔
ہوا اب کچھ ٹھنڈی ہو چکی تھی۔
مراد کے ذہن میں اگلا قدم واضح تھا۔۔۔۔
دوسرا حصہ
رات ایک بار پھر ندی جعفر پر اتر آئی تھی۔
پانی کا بہاؤ جنوب کی طرف اپنی مستقل رفتار سے رواں تھا، بہاؤ کے برعکس ایک سیاہ کشتی خاموشی سے شمال کی جانب بڑھ رہی تھی۔ اس پر نہ کوئی چراغ جل رہا تھا، نہ کسی انجن کی نمایاں آواز سنائی دیتی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ پانی کو چیرنے کے بجائے اس پر پھسل رہی ہو۔
اشعر مناسب فاصلے پر تھا۔
اس کی ربڑ کی کشتی بھی اندھیرے کا حصہ بنی ہوئی تھی۔ اس نے رفتار اتنی ہی رکھی تھی کہ سامنے والی کشتی اس کی نظروں سے اوجھل نہ ہونے پائے۔
شہر کی روشنیاں بہت پیچھے رہ گئی تھیں۔
اب دونوں کناروں پر درختوں کے سائے تھے، کہیں کہیں چٹانیں، اور ان کے درمیان مسلسل بہتا ہوا پانی۔
ندی ایک تنگ موڑ کاٹ کر پہاڑوں کے دامن میں داخل ہوئی تو سامنے والی کشتی کی رفتار آہستہ ہونے لگی۔
اشعر نے فوراً اپنا انجن بند کر دیا۔
اب اس کی کشتی صرف بہاؤ اور ہلکی سی چپو کی مدد سے آگے بڑھ رہی تھی۔
چند لمحوں بعد سامنے والی کشتی کنارے کے قریب جا کر رک گئی۔
اندھیرے نے زیادہ کچھ دیکھنے نہیں دیا۔
صرف دھندلے سے سائے حرکت کرتے دکھائی دیے۔
پھر...
کسی لکڑی کے تختے پر قدم رکھنے کی آواز آئی۔
کسی دھاتی چیز کے ہلکے سے ٹکرانے کی آواز۔
پھر چند مدھم جملے، جو پانی اور ہوا کے شور میں لفظ بننے سے پہلے ہی بکھر گئے۔
اس کے بعد خاموشی۔
اشعر نے چند لمحے مزید انتظار کیا۔
جب یقین ہو گیا کہ کشتی دوبارہ حرکت نہیں کرے گی تو اس نے اپنی کشتی کنارے کی طرف موڑی۔
وہ زیادہ دور نہیں تھا، مگر اتنا ضرور کہ اندھیرے نے اسے اوجھل رکھا۔
کنارے پر پہنچ کر اس نے ربڑ کی کشتی کو جھکی ہوئی جھاڑیوں سے باندھ دیا اور آہستہ آہستہ اوپر چڑھنے لگا۔
ڈھلوان زیادہ دشوار نہیں تھی۔
چند قدم اوپر جاتے ہی ہوا کی کیفیت بدل گئی۔
پانی کی نمی میں ایک الگ سی مہک شامل ہو گئی تھی۔
ہلکی میٹھی۔۔!
اور موم جیسی۔
وہ چند قدم اور آگے بڑھا۔
درختوں کے درمیان سے مدھم روشنی کی ایک لکیر ابھر کر سامنے آئی۔
اب منظر آہستہ آہستہ واضح ہونے لگا۔
جستی چادروں کے دو شیڈ۔۔
چند لکڑی کے کیبن۔۔۔
اور ان کے سامنے قطار در قطار رکھے سفید رنگ کے شہد کے چھتے۔
ایک طرف دو مزدور حفاظتی جالیاں پہنے اپنے کام میں مصروف تھے۔ کسی بڑے برتن سے دھواں اٹھ رہا تھا اور فضا میں شہد اور موم کی ملی جلی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔
یہ شہد فارم تھا۔
اشعر نے خاموشی سے پورے احاطے پر نظر دوڑائی۔
جس کشتی کا وہ تعاقب کرتے ہوئے یہاں تک آیا تھا، وہ اب کنارے کے ساتھ بندھی ہوئی تھی۔
مگر اس کے مسافر کہیں دکھائی نہیں دے رہے تھے۔
گویا وہ اندھیرے میں اترے تھے۔۔
اور اندھیرے ہی میں کہیں گم ہو گئے تھے۔
اشعر نے مزید آگے آگے جانے کا ارادہ ملتوی کر دیا کیونکہ اب معلومات ضرورت تھیں ان کو اس اندھیرے میں اکٹھا کرنا مشکل تھا۔ اب مراد سے مل کر ہی آگے کا لائحہ عمل طے کرنا تھا سو اشعر اندازے سے ڈھلوان سے کشتی کی طرف اترنے لگا۔۔۔
آخری حصہ
شہر کے نسبتاً خاموش حصے میں واقع وہ دو منزلہ عمارت رات کے اس پہر بھی ویسی ہی بےنام کھڑی تھی جیسے دن بھر رہی تھی۔ نہ باہر کوئی تختی تھی، نہ غیر معمولی آمدورفت۔ آس پاس سے گزرنے والے شاید ہی کبھی اس پر دوسری نظر ڈالتے۔ یہ اصغر ہاؤس تھا، مراد کا آفس۔۔۔
اوپر والے کمرے میں زرد روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ میز پر پھیلائے رفیع نگر کے نقشہ پر مراد اور اشعر سر جھکائے بیٹھے تھے۔
"ندی کے اوپر، پہاڑوں کے دامن میں یہاں ایک شہد کمپنی کا کیمپ ہے۔ کشتی وہیں جا کر رکی تھی۔"
"کشتی پر سواروں دونوں افراد کا رویہ عام مزدوروں سے الگ تھا۔ کشتی کنارے لگی، بندھی... پھر وہ دونوں ایسے غائب ہوئے جیسے انہیں معلوم ہو کہاں جانا ہے۔ نہ مزدوروں کے ساتھ رکے، نہ ادھر اُدھر دیکھا۔ سیدھے اندھیرے میں نکل گئے۔ اس اندھیرے میں میرے لیے بس اتنا ہی ممکن تھا۔"
مراد نے میز پر پھیلے نقشے کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
"ایک طرف شہد کا فارم..."
اس نے ایک جگہ انگلی رکھی۔
"...دوسری طرف شہد کا فارم۔"
اشعر خاموش رہا۔
مراد آہستہ سے بولا
"دونوں کے درمیان کوئی بہت ہی خاص کھچڑی پک رہی ہے"
اسی لمحے دروازے پر دستک ہوئی اور فراز اندر آیا۔
اس کے ہاتھ میں ایک باریک سی فائل تھی۔
فراز نے فائل مراد کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا:_
"نام کامران سلیم ہے۔ پچھلے چھ برس سے شیلڈ سیکیورٹی سروسز میں ملازم ہے۔ ابتدا میں گارڈ تھا، پھر سپروائزر بنا اور اب کمپنی کی موبائل ٹیم میں ہے۔ پولیس ریکارڈ صاف ہے، کسی مقدمے یا شکایت کا نام نہیں۔ لیکن پچھلے آٹھ مہینوں میں اس کے بینک اکاؤنٹ میں کئی مرتبہ بڑی بڑی رقوم منتقل ہوئی ہیں۔ بھیجنے والے ہر بار الگ ہیں، مگر رقم جمع ہونے کا انداز ایک جیسا ہے۔ اس کی تنخواہ ان رقوم کا جواز نہیں بنتی۔ گھر، خاندان اور روزمرہ معمول بھی دیکھ لیے ہیں۔ بظاہر ایک عام ملازم لگتا ہے، مگر حساب کتاب کچھ اور کہانی سنا رہا ہے۔"
کمرے میں چند لمحے خاموشی رہی۔
مراد نے تصویر پر ایک نظر ڈالی، پھر فائل بند کر دی۔
"یہ آدمی کہیں نہیں جا رہا۔"
اشعر نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگا دی۔
مراد نے نقشے پر ہاتھ رکھا۔ اس کی انگلی گودام سے چلتی ہوئی ندی جعفر کے ساتھ پہاڑوں میں قائم شہد کمپنی تک جا رکی۔
"میرے خیال میں ہم غلط سرے سے شروع کر رہے ہیں۔"
دونوں اس کی طرف متوجہ ہو گئے۔
"یہ ڈرائیور صرف ایک کڑی ہے۔ اسے آج اٹھا بھی لیا تو زیادہ سے زیادہ اتنا بتائے گا جتنا اسے معلوم ہے۔ لیکن اگر پہلے شہد کمپنی کو اچھی طرح سمجھ لیا جائے تو شاید ہمیں ان لوگوں تک پہنچنے کا راستہ مل جائے جو اصل کھیل چلا رہے ہیں۔"
اشعر نے اثبات میں سر ہلایا۔
"یعنی پہلے کیمپ؟"
"پورا کیمپ۔" مراد نے نقشے سے ہاتھ ہٹاتے ہوئے کہا۔ "آنے جانے والے، مزدور، اسٹور روم، راستے... ہر چیز۔ جب تصویر مکمل ہو جائے گی، تب اس طوطے کو پکڑیں گے۔ اس کے بعد اسے بولنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔"
فراز نے فائل دوبارہ اٹھا لی۔
"تب تک میں اس پر خاموشی سے نظر رکھتا ہوں۔"
"بس یہی چاہیے۔" مراد نے مختصر جواب دیا۔
کمرے میں دوبارہ خاموشی چھا گئی۔
اب نقشے پر صرف دو جگہیں اہم رہ گئی تھیں۔
جنوب مغربی کچی بستی کا وہ گودام۔۔۔!
اور شمالی پہاڑوں میں قائم شہد کا وہ کیمپ، جہاں شاید شہد سے کہیں زیادہ قیمتی چیز چھپی ہوئی تھی۔
(چوتھا باب ختم ہوا)
0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home