1— رات کے سائے (چھٹا باب)
پہلا حصہ
رات آہستہ آہستہ کچی بستی پر اتر آئی تھی۔
گلیوں میں دن کا شور بہت پہلے تحلیل ہو چکا تھا۔ کہیں دور کسی گھر کی کھڑکی سے ٹیلی وژن کی مدھم آواز آ رہی تھی، کہیں کسی کتے کے بھونکنے کی آواز چند لمحے فضا میں گونج کر خاموش ہو جاتی۔ گودام کے اردگرد پھیلی نیم تاریکی میں ہر چیز معمول کے مطابق دکھائی دیتی تھی، جیسے یہاں برسوں سے کچھ نہ بدلا ہو۔
لیکن یہ صرف باہر سے تھا۔
چند سو گز کے فاصلے پر، ایک نامکمل عمارت کی چھت پر سیاہ لباس میں ملبوس وہ شخص خاموش بیٹھا تھا۔
اس نے ایک بار پھر گودام کا جائزہ لیا۔
مرکزی گیٹ بند تھا۔
اندرونی صحن میں ایک زرد بلب جل رہا تھا۔
اس روشنی میں دو مسلح افراد آہستہ آہستہ چہل قدمی کر رہے تھے۔ دونوں کے کندھوں پر جدید خودکار رائفلیں لٹک رہی تھیں، مگر ان کے انداز میں کسی تربیت یافتہ محافظ جیسی چوکسی نہیں تھی۔ ایک چلتے چلتے رک جاتا، سگریٹ سلگا لیتا، دوسرا دیوار سے ٹیک لگا کر موبائل کی اسکرین دیکھنے لگتا۔
مراد نے گھڑی پر نظر ڈالی۔
اس نے تقریباً بیس منٹ تک ان دونوں کی نقل و حرکت دیکھی۔
ان کے گشت میں باقاعدگی کم اور عادت زیادہ تھی۔
کچھ دیر بعد ان میں سے ایک اندرونی برآمدے میں جا بیٹھا۔
دوسرا گیٹ تک آیا، باہر سڑک پر ایک سرسری نظر ڈالی، پھر جمائی لیتا ہوا واپس مڑ گیا۔
مراد نے دوربین بند کر دی۔
اسی لمحے وہ خاموشی سے چھت سے نیچے اترا، پچھلی گلی کا رخ کیا اور گودام کی عقبی دیوار تک پہنچ گیا۔
دیوار بہت اونچی نہیں تھی، مگر اس کے اوپر ٹوٹی ہوئی شیشے کی بوتلوں کے نوکیلے ٹکڑے جڑے ہوئے تھے۔
مراد نے جیب سے موٹے کپڑے کی ایک تہہ نکالی، احتیاط سے دیوار کے کنارے پر بچھائی اور ایک ہی جنبش میں اوپر چڑھ گیا۔
دوسری طرف اترتے وقت اس کے جوتے زمین کو یوں چھوئے جیسے کسی نے مٹی پر ہاتھ رکھا ہو۔
وہ چند لمحے ساکت کھڑا رہا۔
ہر طرف خاموشی تھی۔
سامنے ایک پرانا صحن تھا، جس کے گرد چار کمرے بنے ہوئے تھے۔
دائیں طرف کے برآمدے سے دھیمی روشنی باہر آ رہی تھی۔
مراد دیوار کے ساتھ ساتھ آگے بڑھا۔
دروازہ آدھا کھلا تھا۔
اندر دو مسلح آدمی بیٹھے تھے۔
ایک کے ہاتھ میں چائے کا کپ تھا، دوسرا اخبار کے کھیلوں والے صفحے پر نظریں جمائے بیٹھا تھا۔
"کل کا میچ دیکھا تھا؟"
"آدھا دیکھا... پھر نیند آ گئی۔"
"اس دفعہ تو لگتا ہے ہم کپ لے جائیں گے۔"
"ہاں... اگر آخری اوور خراب نہ کیا تو۔"
مراد چند لمحے انہیں دیکھتا رہا۔
ان کی گفتگو، انداز اور بےفکری صاف بتا رہی تھی کہ اس وقت انہیں کسی خطرے کا گمان نہیں۔
وہ خاموشی سے وہاں سے ہٹ گیا۔
سامنے والا کمرہ کھلا تھا۔
اندر صرف خالی شیلفیں اور چند پرانے کارٹن پڑے تھے۔
تیسرے کمرے میں بھی خاص کچھ نہ تھا۔
چند ٹوٹی کرسیاں، لوہے کے ڈرم اور گرد کی موٹی تہہ۔
اب صرف آخری کمرہ باقی رہ گیا تھا۔
یہ صحن کے کونے میں واقع سب سے بڑا کمرہ تھا۔
اس کا دروازہ بند ضرور تھا، مگر اس پر تالا نہیں لگا تھا۔
مراد نے آہستگی سے ہینڈل دبایا۔
دروازہ بغیر آواز کے اندر کی طرف کھل گیا۔
وہ ایک قدم اندر بڑھا۔۔۔
اور بےاختیار رک گیا۔
کمرے کی مدھم روشنی میں لکڑی کے کریٹ چھت تک ترتیب سے رکھے ہوئے تھے۔
قطار کے بعد قطار۔
دیوار سے دیوار تک۔
جتنی جگہ نظر آ رہی تھی، وہاں صرف کریٹ ہی کریٹ تھے۔
مراد آہستہ آہستہ قریب گیا۔
ایک کریٹ کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھا۔
جیب سے باریک دھاتی آلہ نکالا اور احتیاط سے ڈھکن کے کیل ڈھیلے کرنے لگا۔
چند لمحوں بعد ڈھکن ذرا سا اوپر اٹھا۔
مراد نے ٹارچ کی باریک شعاع اندر ڈالی۔
اس کی نظریں چند لمحوں کے لیے وہیں جم گئیں۔
اندر روغنی کاغذ میں لپٹی ہوئی جدید خودکار رائفلیں نہایت ترتیب سے رکھی تھیں۔
ہر ہتھیار نیا۔
ہر پرزہ محفوظ۔
ان کے ساتھ میگزین اور گولہ بارود کے ڈبے الگ خانوں میں رکھے تھے۔
مراد نے آہستگی سے ڈھکن دوبارہ اپنی جگہ بٹھا دیا۔
اس کی نگاہ ایک بار پھر پورے کمرے پر پھیلی۔
اگر صرف ایک کریٹ میں اتنا اسلحہ تھا۔۔۔
تو اس کمرے میں رکھا ہوا ذخیرہ کسی معمولی مجرمانہ کارروائی کے لیے نہیں ہو سکتا تھا۔
یہ ایک ایسی تیاری تھی جس کے نتائج صرف چند افراد تک محدود نہیں رہنے تھے۔
مراد نے بغیر ایک لمحہ ضائع کیے کریٹ کو پہلے جیسی حالت میں بند کیا، کمرے پر آخری نظر ڈالی اور اسی خاموشی سے واپس مڑ گیا جس خاموشی سے اندر آیا تھا۔ باہر صحن میں اب بھی وہی سستی چھائی ہوئی تھی، اور یہی غفلت اس رات اس کی سب سے بڑی مددگار ثابت ہوئی۔
دوسرا حصہ
مراد نے میز پر رکھی چند تصاویر اشعر کی طرف بڑھا دیں۔
اشعر نے ایک ایک تصویر خاموشی سے دیکھی۔ ایک تصویر میں گودام کے اندر قطار در قطار رکھے لکڑی کے کریٹس تھے، دوسری میں کھلے ہوئے کریٹ کے اندر جدید خودکار اسلحہ صاف دکھائی دے رہا تھا۔
اس نے تصویر میز پر رکھتے ہوئے آہستہ سے کہا،
"اب اس میں کوئی شک نہیں رہا۔ اتنے ذخیرے سے تو اس شہر کو آسانی سے یرغمال بنایا جاسکتا ہے۔مجھے شفا ہنی فارمز بھی اس سلسلے کی کڑی لگنے لگ گیا ہے۔۔"
مراد نے نفی میں سر ہلایا۔
"شفا ہنی فارمز صرف ایک پردہ ہے۔ اصل نیٹ ورک اس کے پیچھے کام کر رہا ہے۔ اب تک جو کچھ ہمارے سامنے آیا ہے، اس سے صرف یہ ثابت ہوا ہے کہ اسلحہ پہاڑی درے سے آتا ہے، کیمپ کے مخصوص اسٹور روم میں رکھا جاتا ہے، کشتی کے ذریعے گودام تک پہنچتا ہے اور نہ جانے اب آگے کہاں منتقل ہونا ہے۔۔ لیکن یہ سب لوگ صرف کام کر رہے ہیں، فیصلے نہیں کر رہے۔"
اشعر نے نقشے کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا،
"آپ کا اشارہ مینیجر کی طرف ہے؟"
"بالکل۔"
مراد نے جواب دیا۔
"دو مزدور صرف حکم مانتے ہیں۔ کشتی پر ان کی آمد و رفت بھی مینیجر کی اجازت کے بغیر ناممکن ہے۔ گودام کے مسلح آدمی بھی کرائے کے محافظ لگتے ہیں۔ ڈرائیور بھی ایک ملازم ہے۔ ان میں سے کوئی بھی اس پورے کھیل کا دماغ نہیں ہو سکتا۔ اگر ہمیں اصل آدمیوں تک پہنچنا ہے تو پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ حکم کہاں سے آ رہا ہے۔"
چند لمحوں کے لیے کمرے میں خاموشی رہی۔
اصغر ہاؤس کی اس میز پر رفیع نگر کا نقشہ پہلے کی طرح پھیلا ہوا تھا، جس پر مختلف مقامات سرخ پنسل سے نشان زد تھے۔ ندی جعفر، شفا ہنی فارمز، پہاڑی درہ، جنوب مغربی گودام... اب یہ سب الگ الگ مقامات نہیں رہے تھے بلکہ ایک ہی سلسلے کی کڑیاں بن چکے تھے۔
مراد نے انگلی پہاڑی درے کے نشان پر رکھی۔
" میں یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ پہاڑ کے اُس طرف سے یہ سامان لانے والے کون لوگ ہیں، کتنے ہیں اور کس سمت واپس جاتے ہیں۔"
اشعر نے آہستہ سے سر ہلایا۔
"جبکہ تم کیمپ میں ہی رہو گے، لیکن اب اپنی توجہ ان دونوں مزدوروں سے ہٹا دو۔ مجھے مینیجر کی نقل و حرکت جاننی ہے۔ وہ ڈیوٹی ختم ہونے کے بعد کہاں جاتا ہے، کس سے ملتا ہے اور کتنی دیر رہتا ہے۔ اگر میرا اندازہ درست ہے تو ہمیں اس پوری سازش کا اگلا سرا اسی کے ذریعے ملے گا۔"
"اگر وہ سیدھا گھر چلا گیا تو؟"
مراد ہلکا سا مسکرایا۔
"تب بھی نقصان نہیں ہوگا۔ کسی مشتبہ آدمی کی عادتیں جان لینا بھی تفتیش کا حصہ ہوتا ہے۔ لیکن میرا خیال ہے، وہ ہر رات سیدھا گھر نہیں جاتا۔"
اسی دوران فراز نے میز پر ایک چھوٹی سی ڈائری رکھتے ہوئے کہا،
"میں بھی اس پر نظر رکھوں گا۔ اگر وہ شہر میں کسی مستقل جگہ جاتا ہے تو زیادہ دیر چھپا نہیں رہے گا۔"
مراد نے اثبات میں سر ہلایا۔
"بس ایک بات یاد رکھنا۔ ابھی کسی کو ہاتھ نہیں لگانا۔ جس دن ہم نے جلد بازی کی، اس دن یہ پورا نیٹ ورک زیرِ زمین چلا جائے گا۔ پہلے ہمیں ان کے درمیان رابطے ثابت کرنے ہیں، پھر کارروائی ہوگی۔"
اشعر نے آخری بار میز پر رکھی تصاویر کی طرف دیکھا۔
"یعنی اب ہماری تفتیش سامان سے ہٹ کر آدمیوں تک پہنچ گئی ہے۔"
"بالکل۔"
مراد نے فائل بند کرتے ہوئے کہا۔
"اور اکثر مقدموں میں راز چیزوں سے نہیں، آدمیوں سے کھلتے ہیں۔"
کمرے میں گفتگو ختم ہو چکی تھی، مگر اگلے چوبیس گھنٹوں کا لائحۂ عمل طے ہو چکا تھا۔ اس رات مراد کی منزل پہاڑی درہ تھی، جبکہ اشعر کی پوری توجہ پہلی بار شفا ہنی فارمز کے مینیجر پر مرکوز ہونے والی تھی۔
آخری حصہ
رات کا دوسرا پہر شروع ہو چکا تھا۔
مراد اس بار اندھیرا گہرا ہونے سے پہلے ہی درے کے اندر، اپنی کمین گاہ سنبھال چکا تھا۔۔ ایک بڑی چٹان اور گھنی جھاڑیوں کے درمیان اسے ایسی اوٹ مل گئی تھی جہاں سے وہ پورے درے پر آسانی سے نظر رکھ سکتا تھا، مگر خود اس کا نظر آنا تقریباً ناممکن تھا۔
درہ خاموش تھا۔
صرف پہاڑوں سے اترتی ٹھنڈی ہوا درختوں کی شاخوں کو ہلکا سا جنبش دے رہی تھی۔ کہیں دور کسی رات کے پرندے کی آواز ابھرتی اور پھر خاموشی میں گم ہو جاتی۔ ایک لمحے کے لیے اوپر کی ڈھلوان سے کسی جنگلی جانور کے پتھروں پر پھسلتے قدموں کی مدھم سی آواز سنائی دی، پھر جنگل دوبارہ اپنی فطری خاموشی میں ڈوب گیا۔
مراد کی نظریں مسلسل درے پر جمی تھیں۔
کچھ دیر بعد پتھروں پر دبے قدموں کی باقاعدہ آہٹ سنائی دی۔
تین آدمی درے کے دوسری طرف سے نمودار ہوئے۔ ان کے کندھوں پر وہی مضبوط لکڑی کے کریٹس تھے جنہیں وہ پہلے بھی دیکھ چکا تھا۔ وہ احتیاط سے چل رہے تھے، جیسے اس راستے کے ہر پتھر سے واقف ہوں۔ وہ سیدھے اس مقام تک آئے جہاں ہر بار سامان کا تبادلہ ہوتا تھا۔
چند لمحوں بعد دوسری سمت سے لوڈر بھی آ پہنچا۔
وہی دو مزدور اس سے اترے اور کریٹس وصول کرنے لگے۔
مراد نے پوری توجہ ان کی گفتگو پر مرکوز کر دی۔
الفاظ واضح نہیں تھے، مگر لہجے صاف پہچانے جا سکتے تھے۔
وہ اس علاقے کے عام لوگوں کا لب و لہجہ نہیں تھا۔
چند ٹوٹے ہوئے جملے اس کے کانوں تک پہنچے۔
مراد کے ذہن میں ایک پرانی اطلاع یکایک تازہ ہو گئی۔
ان کا لہجہ شہر کا نہیں تھا۔
وہی مخصوص پہاڑی لب و لہجہ...
جس کے بارے میں برسوں سے شہر میں سرگوشیاں گردش کرتی رہی تھیں۔
سرحد کے قریب پہاڑوں میں روپوش وہ مسلح گروہ... شہر میں ہونے والی بعض تخریب کاریوں میں جن کا نام سننے کو ملتا تھا مگر مراد کا خیال تھا کہ جب کسی واقعے کی تہہ تک پہنچنا مشکل ہو جائے تو اکثر ایک غیر مرئی گروہ کا نام لے کر فائل بند کر دی جاتی ہے۔ اس لیے اس نے کبھی ان افواہوں کو زیادہ اہمیت نہیں دی تھی لیکن۔۔۔۔۔
اُدھر کریٹس لوڈر پر منتقل ہوئے۔
کیمپ کے دونوں مزدور واپس مڑ گئے، جبکہ تینوں مسلح اجنبی حسبِ سابق درے کے اُس پار لوٹنے لگے۔
مراد نے مناسب فاصلہ رکھتے ہوئے ان کا تعاقب شروع کر دیا۔
راستہ مسلسل دشوار ہوتا جا رہا تھا۔
پگڈنڈی کبھی چیڑ کے درختوں کے درمیان سے گزرتی، کبھی چٹانوں کے سائے میں گم ہو جاتی۔ راستے میں کہیں کہیں درخت اتنے گھنے ہوجاتے تھے کہ تینوں مسلح آدمی آنکھوں سے اوجھل ہوجاتے تھے۔۔ ایک جگہ جھاڑیوں میں اچانک کسی جنگلی خرگوش کی دوڑ سے سوکھے پتے سرسرائے تو مراد چند لمحوں کے لیے رک گیا، پھر پہلے کی طرح خاموشی سے آگے بڑھنے لگا۔
تقریباً آدھے گھنٹے بعد وہ ایک پتھریلے حصے تک پہنچے، جہاں قدرتی چٹانیں اور غار نما شگاف دور سے پہاڑ ہی کا حصہ معلوم ہوتے تھے۔
تینوں آدمی انہی چٹانوں کے درمیان اوجھل ہو گئے۔
مراد نے مزید آگے بڑھنے کے بجائے اردگرد کی قدرتی نشانیاں ذہن میں محفوظ کیں، مقام کا اندازہ لگایا اور خاموشی سے واپسی کا راستہ اختیار کر لیا۔۔۔۔
اسی شام شفا ہنی فارمز میں معمول کی مصروفیات ختم ہو رہی تھیں۔
چند مزدور دن بھر استعمال ہونے والا سامان سمیٹ رہے تھے ۔۔ دفتر کے باہر کھڑی سفید گاڑی کے پاس مینیجر آ کر رکا۔
اس نے دروازہ کھولا، گاڑی اسٹارٹ کی اور کیمپ سے نکل کر شہر جانے والی سڑک پر آ گیا۔
اشعر جو کہ کیمپ سے کچھ فاصلے پر جھاڑیوں میں چھپائی گئی اپنی موٹر سائیکل پر انتظار کررہا تھا، مناسب فاصلہ رکھتے ہوئے اس کے پیچھے روانہ ہو گیا۔
یہ پہاڑی سڑک ندی جعفر کے ساتھ ساتھ بل کھاتی ہوئی نیچے اترتی تھی۔
کچھ فاصلے کے بعد وہ موڑ آیا، جہاں سے ایک سڑک سیدھی شہر کی طرف جاتی ہے، جبکہ دوسری جنگل پوائنٹ ہوٹل کی جانب مڑتی ہے۔
اشعر کی نظریں گاڑی پر جمی تھیں۔
اگلے ہی لمحے مینیجر نے رفتار کم کی۔۔۔
اور گاڑی جنگل پوائنٹ کی سڑک پر موڑ دی۔
اشعر نے خاموشی سے اپنی موٹر سائیکل بھی اسی سڑک پر ڈال دی۔۔
1 Comments:
Good 💯
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home